معمر نے ہمیں ابن طاوس سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ( ابتدائی ) دو سالوں تک ( اکٹھی ) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی ، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار ( ضروری ) تھا ۔ اگر ہم اس ( عجلت ) کو ان پر نافذ کر دیں ( تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں ) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا ۔ ( اکٹھی تین طلاقوں کو تین شمار کرنے لگے)
ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں
0 ہم الفاظ · 1 جزوی
یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔
اس حدیث کی شرح
مطبوعہ نسخے کی اپنی فہرست کے مطابق شارح نے اسی حدیث پر یہاں گفتگو کی ہے۔ الفاظ شارح کے اپنے ہیں؛ ہم نے نہ خلاصہ کیا ہے نہ کوئی حکم لگایا ہے۔
یہ مسائل اس لیے درج ہیں کہ ان کے ہر مسلک کے مستند موقف میں یہ حدیث بطورِ حوالہ مذکور ہے۔ مسالک اسے کیسے سمجھتے ہیں اور اختلاف کیوں ہے — یہ مسئلے کے صفحے پر ہے۔
اوپر حدیث، اس کا ترجمہ اور درجہ موجود ہے۔ مزید گہرائی کے لیے اوپر «گہرائی» بدلیں یا نیچے کے ٹیبز کھولیں: صحت، شرح، متعلقہ روایات اور تحقیقی مواد۔