حدیث ۳۶۰ · مسلم 1355 (روایت 2)

حدیث ۳۶۰ — ایک حدیث، سب کچھ

ایک مجموعہ چنیں اور حدیث نمبر لکھیں — عربی متن، ترجمہ، تمام درجات، حوالہ اور متعلقہ اوزار ایک اسکرین پر۔

حدیث، اس کا ترجمہ، درجہ اور مفہوم۔

زبان

مسلم 1355 (روایت 2)(مسلسل 3306)(کتاب 15:510)شرطِ مؤلف: صحیحتصدیقپوسٹر

حدیث (عربی متن)

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلاً مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلاَ وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَلَنْ تَحِلَّ لأَحَدٍ بَعْدِي أَلاَ وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ أَلاَ وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لاَ يُخْبَطُ شَوْكُهَا وَلاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا إِلاَّ مُنْشِدٌ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْطَى - يَعْنِي الدِّيَةَ - وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاهٍ فَقَالَ اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ الإِذْخِرَ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ

شیبان نے یحییٰ سے روایت کی ، ( کہا : ) مجھے ابو سلمہ نے خبر دی ، انھوں نے حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جسے انھوں نے ( بنولیث ) نے قتل کیا تھا قتل کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فر ما یا : " بلا شبہ اللہ عزوجل نے ہا تھی کو مکہ ( پر حملے ) سے روک دیا جبکہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا ۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی ہر گز کسی کے لیے حلال نہ ہو گا ۔ سن لو!یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی بھر حلال کیا گیا تھا اور ( اب ) یہ میری اس موجودہ گھڑی میں بھی حرمت والا ہے نہ ڈنڈے کے ذریعے سے اس کے کانٹے جھا ڑے جا ئیں نہ اس کے درخت کا ٹے جائیں اور نہ ہی اعلان کرنے والے کے سوا اس میں گری ہو ئی چیز اٹھا ئے اور جس کا کو ئی قریبی قتل کر دیا گیا اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو ( اس کی نظر میں ) بہتر ہو : ہا سے عطا کر دیا جا ئے ۔ یعنی خون بہا ۔ ۔ ۔ یا مقتول کے گھر والوں کو اس سے بدلہ لینے دیا جا ئے ۔ کہا : تو اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جسے ابو شاہ کہا جا تا تھا اس نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے لکھوا دیں آپ نے فر ما یا : " ابو شاہ کو لکھ دو ۔ قریش کے ایک آدمی نے عرض کی : اذخر کے سوا ، ( کیونکہ ) ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اذخر کے سوا ۔

سند — اِس حدیث کو پہنچانے والے

6 راوی · 0 کی شناخت یقینی
  1. امام مسلمؒ(مصنف)
  2. حَدَّثَنِي
  3. أَخْبَرَنَا
  4. عَنْ
  5. عَنْ
  6. أَخْبَرَنِي
  7. سَمِعَ

نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔

ملتے جلتے الفاظ — دوسری کتب میں

3 ہم الفاظ · 5 جزوی · 4 متون کا گروہ

یہ فہرست خودکار ہے: عربی متن (سند نہیں) کے الفاظ کا موازنہ کر کے بنی ہے۔ یہ علمی تخریج نہیں — حوالہ دینے سے پہلے اصل دیکھ لیں۔ درجات ہر کتاب کے اپنے ہیں۔

وہی روایت (الفاظ ملتے ہیں)

  • صحیح بخاری1126880
  • مصنف ابن ابی شیبہ36921

اوپر حدیث، اس کا ترجمہ اور درجہ موجود ہے۔ مزید گہرائی کے لیے اوپر «گہرائی» بدلیں یا نیچے کے ٹیبز کھولیں: صحت، شرح، متعلقہ روایات اور تحقیقی مواد۔

اس حدیث کے ساتھ میری پیش رفت

یہ صرف آپ کے آلے پر محفوظ ہوتا ہے۔