حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِينَا {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلاَ} بَنِي سَلِمَةَ وَبَنِي حَارِثَةَ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ، وَاللَّهُ يَقُولُ {وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا}
ترجمہ
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی «إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا» ( آل عمران: 122 ) یعنی بنی حارثہ اور بنی سلمہ کے بارے میں۔ میری خواہش نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی، جب کہ اللہ آگے فرما رہا ہے «والله وليهما» ”اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا۔“
نام بالکل ویسے ہیں جیسے متن میں۔ شناخت صرف وہاں کی گئی ہے جہاں یقینی ہو؛ باقی ناموں پر کلک کرنے سے ممکنہ راوی تلاش ہوتے ہیں۔ درجات کتبِ رجال کے ہیں — راویوں کا ثقہ ہونا اکیلے حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں (شذوذ و علت بھی دیکھے جاتے ہیں)۔
اس حدیث کی شرح
مطبوعہ نسخے کی اپنی فہرست کے مطابق شارح نے اسی حدیث پر یہاں گفتگو کی ہے۔ الفاظ شارح کے اپنے ہیں؛ ہم نے نہ خلاصہ کیا ہے نہ کوئی حکم لگایا ہے۔