پہلی وحی — غارِ حرا
۴۰ سال · ۶۱۰ءنبوت کا آغاز: جبریل ؑ غارِ حرا میں آپ کے پاس آئے اور قرآنِ مجید کے پہلے کلمات لائے۔
أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ... ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ، قَالَ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ
رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی… پھر آپ کو تنہائی محبوب کر دی گئی اور آپ غارِ حرا میں خلوت اختیار کرتے۔ فرشتہ آپ کے پاس آیا اور کہا: پڑھ! آپ نے فرمایا: میں پڑھنا نہیں جانتا۔