…اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے (ہر قسم کی) ناپاکی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔
اہلِ بیت — قرآن و حدیث کی روشنی میں
نبی ﷺ کا گھرانہ — اُن کی فضیلت، اور مومن پر اُن کی محبت کا حق۔
نوٹ: قرآن کی عربی تلاوت مشینی آواز میں نہیں سنائی جاتی — صرف اردو ترجمہ بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کا مفہوم بیان ہوا ہے، لفظی ترجمہ نہیں۔ اصل تلاوت کے لیے حوالے پر جائیں۔
اہلِ بیت کون ہیں؟
قرآن نبی ﷺ کی ازواج کو براہِ راست اہلِ بیت کہہ کر خطاب کرتا ہے (۳۳:۳۲–۳۴)، اور ایک صحیح روایت میں نبی ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو چادر میں لے کر اُنہیں بھی اہلِ بیت فرمایا۔ اِس لیے مسلمان دونوں کو شامل کرتے ہیں — ازواجِ مطہرات اور علی و فاطمہ کا گھرانہ — اور بنو ہاشم بھی جن پر صدقہ حلال نہیں۔
اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے، اور قاعدے کے مطابق بات کرو۔
اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہم پر ایک چادر ڈالی اور فرمایا: "اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں، اِن سے ناپاکی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے۔"
قرآن — نبی ﷺ کے قرابت داروں کی محبت و عزت
کہہ دیجیے! کہ میں اِس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر قرابت داری کی محبت۔ اور جو شخص کوئی نیکی کرے ہم اُس کے لیے اُس میں بھلائی بڑھا دیں گے۔
بیشک اللہ اور اُس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی اُن پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔
پس علم آ جانے کے بعد جو شخص اِس میں آپ سے جھگڑے تو کہہ دیجیے کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو، ہم اپنی جانوں کو بلائیں اور تم اپنی جانوں کو، پھر مل کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔
حدیث — سنت میں اُن کی فضیلت
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا: "میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب، جس میں ہدایت اور نور ہے، پس اُسے مضبوطی سے تھام لو۔" پھر فرمایا: "اور میرے اہلِ بیت؛ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں" — آپ نے تین بار فرمایا۔
صحابہ نے پوچھا کہ آپ پر درود کیسے بھیجیں، تو آپ ﷺ نے سکھایا: "اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ…" — یوں آپ کی آل کا ذکر اُس درود میں ہے جو ہر مسلمان پڑھتا ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور اُن کے والد اُن سے بہتر ہیں۔"
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ کو بلا کر سرگوشی فرمائی تو وہ روئیں، پھر سرگوشی فرمائی تو وہ ہنس پڑیں۔ آپ نے انہیں اپنے وصال کی خبر دی، پھر یہ کہ اہلِ بیت میں سب سے پہلے وہی آپ سے ملیں گی — اور یہ کہ وہ مومن عورتوں کی سردار ہیں۔
مسلمان کا ادب و منہج
اہلِ بیت سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اور اُن کی فضیلت قرآن اور صحیح سنت سے ثابت ہے — نہ کہ غلو سے۔ مسلمان وہی توازن رکھتے ہیں جو خود نبی ﷺ نے قائم فرمایا: ہم آپ کے اہلِ بیت سے بھی محبت کرتے ہیں اور آپ کے صحابہ سے بھی، نہ کسی کو اُس مقام سے بڑھاتے ہیں جو اللہ نے دیا، اور نہ اُس کی تنقیص کرتے ہیں جسے اللہ نے عزت دی۔ یہ دونوں محبتیں ایک ساتھ ہیں۔